نئی دہلی،21؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )جنگلوں کو بچانے اوراس میں اضافہ کرنے کے لیے لائے جا رہے کیمپا بل پرکانگریس نے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیاہے۔اس بل کو راجیہ سبھا سے پاس کروایا جانا ہے، اس پر جنگلات حقوق قانون کے تحت کانگریس ایک ترمیم کا مطالبہ کررہی تھی لیکن کانگریس کے پاس ضروری حمایت کا فقدان ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے بحث کے دوران بل پر ووٹوں کی تقسیم کے لیے زور نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس صدر سونیا نے جنگلات حقوق قانون پر بولتے ہوئے حکومت پر زور دار حملہ کیا تھا۔کیمپا بل پر کانگریس کی مخالفت جنگلات حقوق قانون کونظر انداز کرنے کو لے کر ہے۔پارٹی کا یہ کہنا ہے کہ اس بل کے تحت بنائے جا رہے کیمپا فنڈ کا استعمال گرام سبھا کی اجازت سے ہوناچاہیے لیکن حکومت چاہتی ہے کہ یہ شق بل میں لانے کے بجائے ایگزیکٹو اصول میں ڈالی جائے۔راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے بدھ کو اس بارے میں کانگریس کے جے رام رمیش سمیت کچھ دیگرلیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ کانگریس ووٹوں کی تقسیم پر زور نہیں دے گی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ ہمارے ساتھ اب صرف جے ڈی یو اور سی پی ایم ہی ہے،اس لیے ہم پہلے یہ دیکھیں گے کہ کیا ہمیں اپنی ترمیم کے لیے مکمل حمایت مل رہی ہے یا نہیں۔کیمپا بل کے تحت صنعتوں کے قیام کے وقت برباد ہونے والے جنگلات کی تلافی کے لیے ایک فنڈ بنایا جانا ہے جس میں 10فیصد پیسہ مرکز کے فنڈ اور 90فیصد ریاست کے فنڈ میں جائے گا۔اس فنڈ کے استعمال میں گرام سبھا کی حصہ داری اور رضامندی جنگلات حقوق قانون کے تحت ضروری کئے جانے کو لے کر ہی کش مکش چل رہی ہے۔